درثمین مع فرہنگ — Page 22
نہ وہ تیری صورت نہ وہ رنگ ہے کہو کس سبب تیرا دل تنگ ہے ؟ مجھے سچ بتا کھول کر اپنا حال کہ کیوں غم میں رہتا ہے اسے میرے لال؟ وه رو دیتا کہہ کر کہ " سب خیر ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے “ نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھا پہاڑ پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار درد مند اُتار اپنے مونڈھوں سے دنیا کا بار طلب میں سفر کر لیا راختیار خُدا کے لئے ہو گیا تنعم کی راہیں نہ آئیں پسند طلب میں چلا بے خود و بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے اس جو پوچھا کسی نے " چلے ہو کدھر غرض کیا ہے جس سے کیا یہ سفر ؟" کہا رو کے ۔ " حق کا طلب گار ہوں نثار رو پاک کرتار ہوں “ سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا کہ اسے میرے کرتار مشکل کشا ! میں عاجز ہوں ، کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بنده درگیر پاک ہوں میں قرباں ہوں دل سے تری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا نشاں تیرا پاکر وہیں جاؤں گا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا 66 کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا کہ جس میں ہو اسے میرے تیری رضا " 22