درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 21

خُدا کا یہ تھا فضل اس مرد پر ہوا اس کی دردوں کا اک چارہ گر یہ مخفی امانت ہے کرتار کی یہ تھی اک کلید اس کے اسرار کی محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں سُنو مجھ سے اے لوگو ! نانک کا حال سنو! قصه قدرت ذو الجلال ! وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات خردمند ، خوش خو ، مبارک صفات ابھی عمر سے تھوڑے گذرے تھے سال کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال اسی جستجو میں وہ رہتا کدام کہ کس راہ سے سچ کو پارے تمام ؟ اُسے دید کی رہ نہ آئی پسند کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے لگا ہونے دل اُس کا اوپر تلے کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام ضلالت کی تعلیم ، ناپاک کام ! ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم وہ رہتا تھا اس غم میں ہر دم اُداس زباں بند تھی۔ دل میں سو سو ہر اس یہی فکر کھاتا اُسے صبح وشام نہ تھا کوئی ہم راز ۔ کے ہم کلام کبھی باپ کی جب کہ پڑتی نظر وہ کہتا کہ " اے میرے پیارے پسر ! میں حیراں ہوں تیرا یہ کیا حال ہے وہ غم کیا ہے جس سے تو پامال ہے ؟ 21