درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 17

چھو کے دامن ترا ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا ا مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے میرے میٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ ترا نقش جایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو محبت نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطین کو جلایا ہم نے ہم ہوئے خیر ہم تجھ سے ہی اسے خیر امسال تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آکے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام ۱۳۷۴ مطبوعه ۹۳یدار روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۰) 17