درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 18

چوله بابا رحمة اللہ علیہ ہیں پاک چولا ہے سکھوں کا تاج ہی کابلی کل کے گھر میں ہے آج یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے جو دور اس سے اُس سے خُدا دور ہے ہیں تم سے کھی میں مذکور ہے جو انگہ سے اس وقت مشہور ہے اسی پر وہ آیات ہیں بنیات کہ جن سے ملے جاودانی حیات یہ نانک کو خلعت ملا سرفراز خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز اسی سے وہ سب راز حق پا گیا اسی سے وہ حق کی طرف آ گیا بچایا اُسے ہر اک بد گہر سے چھڑایا اُسے ذرا سوچوں کھو! یہ کیا چیز ہے؟ یہ اُس مرد کے تن کا تعویذ ہے یہ اس بھگت کا رہ گیا اک نشاں نصیحت کی باتیں ، حقیقت کی جاں گرنتھوں میں ہے شک کا ایک احتمال کہ انساں کے ہاتھوں سے ہیں دست مال جو پیچھے سے لکھتے لکھاتے رہے خدا جانے کیا کیا بناتے رہے گماں ہے کہ نقلوں میں ہو کچھ خطا کہ انساں نہ ہووے خطا سے جدا مگر یہ تو محفوظ ہے بالیقیں وہی ہے جو تھا اس میں کچھ شک نہیں اسی نے بلا سے 18