درثمین مع فرہنگ — Page 16
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبا لب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لا جرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کی ہم جب سے عشق اُس کا تیر دل میں بھایا ہم نے زعم میں اُن کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کارفر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں ! نام کیا کیا غم ملت میں رکھا یا ہم نے گالیاں سُن کے دُعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے | تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر لایا ہم نے صف دشمن کو کیا ہم نے تحت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے نور دکھلا کے ترا سب کو کیا ملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش بستی تری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تری رہ میں اُڑایا ہم نے تیرا کے خانہ ہو ایک مرجع عالم دیکھا تم کا خُم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے شانِ حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے 16