درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 15

صلى الله اسلام اور بانی اسلام سے عشق ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں۔ دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے یہ تمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور، اُٹھو دیکھو سنا یا ہم نے اور دینیوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دھوتوں کا تیر چلا یا ہم نے آزمائش کے لیے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے ہوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے جل رہے ہیں یہ سبھی بغضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے آؤ لوگو ! کہ یہیں نُورِ خدا پاؤ گے تو تمہیں طور کنی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اِس عاجز میں دل کو اُن نوروں کا ہر رنگ دلا یا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی موجود اپنا ملا یا ہم نے مصطفے پر ترابے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے 15