درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 196

مر گیا بد بخت اپنے وار سے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے کھل گئی ساری حقیقت سیف کی کم کرو اب تاز راس مردار سے کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں ہم نے سو سو طرح سے سمجھایا اس غرض سے کہ زندہ یہ ہو ہیں ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا ہے جب سے اے یار تجھے یار بنایا ہم نے ہر نئے روز نیا نام رکھایا ہم نے کیوں کوئی خلق کے طعنوں کی نہیں دے کے طعنوں کی ہمیں دے دھمکی یہ تو سب نقش دل اپنے سے مٹایا ہم نے اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں تو جاں ہی سہی بلا سے کچھ تو پیٹ جاتے فیصلہ دل کا اگر ہزار کا ہو تو دل نہیں ڈرتا ذرا تو دیکھتے کیسا ہے حوصلہ دل کا وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا ہے (نزول المسیح صفحه ۲۲۴ مطبوع ) ه از مسودات حضرت مسیح موعود ) (رساله تشید الاذهان ماه دسمبر شاه که اخبار الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۳ ۶۱۹۰۹ از مسودات حضرت مسیح موعود ) 196