درثمین مع فرہنگ — Page 192
6 باطنی سے بچو اگر دل میں تمھارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظن بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظن بد رکھتا ہے عادت بدی سے خود وہ رکھتا ہے ارادت گمان بد شیاطیں کا ہے پیشہ نہ اہل عفت و دیں کا ہے پیشہ تمھارے دل میں شیطاں دے ہے بچے اسی سے ہیں تمھارے کام کچنے وہی کرتا ہے ظن بد بلا ریب کہ جو رکھتا ہے پردہ میں وہی عیب وہ فاسق ہے کہ جس نے رہ گنوایا نظر بازی کو اک پیشہ بنایا مگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیو! وہاں باطنیوں سے بچ کے رہیو اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامن مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار کم ہیں بوستاں میں تمھیں یہ بھی سناؤں اس بیاں ہیں کہ عاشق کسی کو کہتے ہیں جہاں میں وہ عاشق ہے کہ جس کو حسب تقدیر محبت کی کہاں سے آلگا تیر نہ شہوت ہے نہ ہے کچھ نفس کا خوش ہوا الفت کے پیمانوں سے مدہوش لگی سینہ میں اُس کے آگ غم کی نہیں اس کو خبر کچھ پیچ وخم کی 192 ( منقول از مسودات حضرت مسیح موعود)