درثمین مع فرہنگ — Page 191
یا اٹھی اک نیشاں اپنے کرم سے پھر دکھا گردنیں جھک جائیں جس سے اور مکذب ہوں خوار اک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت اسے قدیر جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار تیری طاقت سے جو منکر ہیں انھیں آپ کچھ دکھا پھر بدل دے گلشن و گلزار سے یہ دشت خار زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں پر کسی ڈھب سے تزکیل سے ہو بلت رستگار دین و تقوی گم ہوا جاتا ہے یا رب جم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار میرے آنسو اس رغم دل سوز سے تھمتے نہیں ہیں کا گھر ویراں ہے اور دنیا کے ہیں عالی منار دیں تو اک ناچیز ہے دنیا ہے جو کچھ چیز ہے آنکھ میں اُن کی جو رکھتے ہیں زرو غرو وقار جس طرف دیکھیں وہیں اک دہریت کا جوش ہے دیں سے ٹھٹھا اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار جاہ و دولت سے یہ زہریلی ہوا پیدا ہوئی موجب نخوت ہوتی رفعت کہ تھی اک زہر مار ہے بلندی شان ایزد گو بیشتر ہو وے بلند فخر کی کچھ جا نہیں وہ ہے متابع مستعار ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ ہے یہی غم میرے دل میں جس سے ہوں میں دلفگار اے میرے پیارے مجھے اس سیل غم سے کر رہا ور نہ ہو جائے گی جہاں اس درد سے تجھے سے تجھ پر نشار (منقول از نوٹ ایک حضرت مسیح موعود) 191