درثمین مع فرہنگ — Page 183
پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار شکر اللہ میری بھی آئیں نہیں خالی گئیں کچھ نہیں طاعوں کی صورت کچھ زلازن کے بخار اک طرف طاعُونِ خُونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اس کا شکار دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے راک محشر کا عالم تھا بصد شورو پکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیتے جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیوں کر شمار یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت و زیب جلوس یا ہوتے اک ڈھیر انٹیوں کے پر از گرد و غبار حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر اور ہو گئے دنیا سے پار اس نیشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دل پس خدا جانے کہ اب کس حشر کا ہے رانتظار وہ جو کہلاتے تھے صوفی کیس میں سب سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار ووو کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابزار ہیں! پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ دی رحمن کی پھوار پر وہی نا فہم ملهم اول الاعدار ہوتے آگیا چرخ بریں سے اُن کو تکفیریوں کا تار 183