درثمین مع فرہنگ — Page 184
سب نشان بیکار ان کے بغض کے آگے ہوتے ہو گیا تیر تعصب اُن کے دل میں وار پار دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اُس ستار کی گو شناویں اُن کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار صوفیا اب پیچ ہے تیری طرح تیری تراہ آسماں سے آگئی میری شہادت بار بار قدرت حق ہے کہ تم بھی میرے دشمن ہو گئے یا محبت کے وہ دن تھے یا ہوا ایسا نقار دھو دیے دل سے وہ سارے صحبت دیریں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار جس قدر نقد تعارف تھا وہ کھو بیٹھے تمام آہ! کیا یہ دل میں گذرا ہوں میں اس سے دلنگار آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گردو غبار اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے کیا کبیر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا سمار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر وزیر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آپ رود بار تاریخ امروز ۱۵ اپریل ۱۹۰۵ء کے خدا تعالیٰ کی دی میں زلزلہ کا باربار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جونمونہ قیامت ہو گا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیے جس کی طرف سورۃ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جا نہیں سکتا ممکن ہے کہ مولی زلزلہ نہ ہوبلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلا دے جس کی نظیر بقیہ اگلے صفحے پر 184