درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 182

ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمد پر تبرز کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور ان کے وہ وار کون سی آنکھیں جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تر کرین میں پڑا اسلام کا عالی منار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا یہ شمس الدین نہاں ہو جائے گا اب زیر غار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یا رب سخت ہے یہ کارزار ہر نہی وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر کر گئے وہ سب دعائیں با دو چشم اشکبار جنگ اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب اور ہے متقابل پر حریف نامدار دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پینہ فوج ملائک کو اُتار بستر راحت کہاں ان فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہو رہا ہے بر تر از شب ہائے تار لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا بات مشکل ہو گئی قدرت دکھا اسے میرے یار نسل انساں سے مدد اب مانگنا بے کار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب " پکار کیوں کریں گے وہ مدد، ان کو مدد سے کیا غرض ؟ ہم تو کافر ہو چکے اُن کی نظر میں بار بار 182