درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 181

افترا لعنت ہے اور ہر مفتری ملعون ہے پھر کہیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار تشنہ بیٹھے ہو کنار جوتے شیریں حیف ہے سرزمین ہند میں چلتی ہے نہر خوشگوار ان نشانوں کو ذرا سوچو کہ کیس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار مفت میں ملزم خدا کے مت بنو اسے منکر یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار یہ فتوحات نمایاں یہ تواتر سے نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار ایسی سرعت سے یہ شہرت ناگہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدق قول کرد گار کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار رمیٹ گئے چیلے تمھارے ہو گئتی حجت تمام اب کہو کس پر ہوئی اسے منکرو لغت کی مار بندہ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوف ہار مت کرو یک یک بہت اُس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی دل کو نہ باتوں کی سنوار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمھاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار لے اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان می سے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں ۔ زمین نے بھی میرے لیئے نشان دکھلاتے اور آسمان نے بھی اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور ان نشانوں کو اگر تفصیلی جدا جدا شمار کیا جائے تو قریباً وہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِله عَلى ذلك - منہ 181