درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 180

جھا بجتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب در کُھل گئے پھر ہو گئے شیر شعار دہ ختنہ اتن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمیدوار پر ہوئے ہیں کے لیے یہ لوگ ماری استیں دشمنوں کو خوش کیا اور ہو گیا آزردہ یار و غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے پاک کو ناپاک سمجھے ہو گئے مردار خوار گو وہ کا فرکہ کے ہم سے دور تر ہیں جا پڑے اُن کے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حربین و و دلفگار دا ہم نے یہ مانا کہ ان کے دل میں پتھر ہو گئے پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا امید آیتِ لا تنسوا رکھتی ہے دل کو استوار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش ربّ ذوالمن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار جن میں آیا ہے میچ وقت وہ منکر ہوتے مر گئے تھے اس تمنا میں خواص ہر دیار میں نہیں کہتا کہ میری جاں ہے رہے پاک تر میں نہیں کہتا کہ یہ میرے عمل کے ہیں شمار میں نہیں رکھتا تھا۔ اس دعویٰ سے اک ذرہ خبر کھول کر دیکھو برا ہیں کو کہ تا ہو اعتبار گر کہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایان قریش وہ خُدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار مجھ کو بیس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پروا نہیں ہو سکے تو خود بنو مہدی محکم کردگی کار 180