درثمین مع فرہنگ — Page 179
اُس کے آتے آتے ہیں کا ہو گیا قصہ تمام کیا وہ تب آئے گا جب دیکھے گا اس دیں کا مزار کشتی اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادت اسے خدا جوش و پیش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ لگا دے آگ میرے دل میں بلیت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہر دم آسماں تک بے شمار اے خدا تیرے لیئے ہر ذرہ ہو میرا خدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار ایک فرقاں ہے جو شک اور کیسے وہ پاک ہے بعد اس کے ظن غالب کو ہیں کرتے اختیار پھر یہ نقلیں بھی اگرمیری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کار زار باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب شمر میں خُدا کا فضل لایا پھر ہوتے پیدا شمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک دیار کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃ والعصر کے حروف کے اعداد نکالنے سے معلوم ہوتا ہے ۔ یہود اور نصاریٰ کے حساب سے قریباً بتمام و م و کمال ملتا ہے ۔ صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیئے اور اُن کی کتابوں۔ کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گذر گیا ۔ منہ 179