درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 178

جبکہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جبکہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار پھر یقین کو چھوڑ کر ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو روئیت ہے بہتر یا نقول پر غبار تفرقہ اسلام میں نقلوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گزار صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہو گئے شیطاں کے پھیلے گردن دیں پر سوار موت عیسی کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تبدیل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقاں پہ کر سکتے ہو کوار؟ وہ خدا جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا اب بھی وہ تائید فرقاں کر رہا ہے بار بار سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمر دنیا سے بھی اب ہے آ گیا ہفتم شہزار لے کتب سابقہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے۔ اسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ اِن يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ یعنی خدا کا ایک دن تمھارے ہزار برس کے برابر ہے اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے زمانہ تک حضرت آدم سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحباب اسجد معلوم ہوتی ہے اور اس کے رو سے حضرت آدم سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت بقیہ اگلے صفحے پر 178