درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 177

میں اگر کاذب ہوں کتابوں کی دکھیوں کا سرا پر اگر صادق ہوں پھر کیا عذر ہے روزِ شمار اس تعصب پر نظر کرنا کہ میں اسلام پر ہوں خدا، پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار ہاتے وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی ساربان نفیس دون نے کس طرف پھیری مہار کام جو دکھلاتے اس خلاق نے میرے لیئے کیا وہ کر سکتا ہے جو ہو مفتری شیطاں کا یار میں نے روتے روتے دامن کر دیا تر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی با حال زار ہائے یہ کیا ہو گیا عقلوں پہ کیا پتھر پڑے ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار یا کسی مخفی گنہ سے شامت اعمال ہے جس سے عقلیں ہو گئیں بے کار اور راک مردہ وار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں معیار ایسے کچھ سوتے کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے کہ پھر رسیاں ہوا گردن کا ہار نوع انساں میں بدی کا تخم بونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہو اس کا کاشتکار چھوڑ کر فرقاں کو آثار مخالف پر جمے سر کم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار جبکہ ہے امکان کذب و کج روی اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہیں پر انحصار 177