درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 176

جبکہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے شمار کیا تمھاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اس دن سے ڈرو یارو کہ ہے روز شمار آنکھ رکھتے ہو ذرا سوچو کہ یہ کیا راز ہے؟ کس طرح ممکن کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار یہ کرم مجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبار کیرد گار مجھ کو خود اُس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگاوے از سر کو باغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر تو یہ چادر اتار خیرگی سے بدگمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں جب کہ ہے شور قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی ہیں جو بیٹھے دہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آور اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامین اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق این جدار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بڑے آتے ہیں دن یا پر گئی لعنت کی مار کچھ تو سمجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں جب ان کو کیا اپنا شکار آے کہ ہر دم بد گمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہو گئی اسے ہوشیار 6 176