درثمین مع فرہنگ — Page 175
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لاتے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوتے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی مجھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار اے مرے پیار و شکیب وصبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مُشک تتار نقش کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چھکے چھلکے کرتا ہے پیدا وہ سامان دمار جس نے نفس دوں کو ہمت کرکے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے رستم و اسفند یار گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو ان کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چپ رہو تم دیکھ کر ان کے رسالوں میں ستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مرت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج باران بهار افترا ان کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال الله اکبر کس قدر ہے نابکار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کہیں سے فرار پاک دل پر بد گمانی ہے یہ شقوت کا نشاں آب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار 175