درثمین مع فرہنگ — Page 174
تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی تیری قدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مردہ کار کام دکھلاتے جو تو نے میری نصرت کے لئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار کی طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر بشار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال وحسن میں جس نے اک چھپکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار اے مرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدرت سے نہیں کچھ دور گر پائیں شد بار مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انھیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے دین کا شعار مجھ پہ اسے واعظ انظر کی یار نے تجھ پر نہ کی حیف اس ایماں پہ جس سے کفر بہتر لاکھ بار روضتہ آدم کہ تھا وہ نا مکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثل سنار وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں کراہ دیتی ہیں تو خود کھینچے ہے دل مثل ثبت سیمیں عذار پس یہی ہے رمز جو اس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی رہ سے جو اُٹھا تھا اک غبار تا دکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار 174