درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 163

بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے میری تائید کی خائب و خاسر رہے تم ، ہو گیا میں کامگار راک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی انہاں ایسی کہ گویا زیر غار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چر چاکس قدر ہے ہر کنار اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرور روزگار کھول کر دیکھو برائیں جو کہ ہے میری کتاب اس میں ہے یہ پیشگوئی پڑھ لو اس کو ایک بار اب ذرا سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر نہاں پر کس کینسر کو اقتدار قدرت رحمان و مگر آدمی میں فرق ہے جو نہ سمجھے وہ غیبی از فرق تا پا ہے حمار سوچ لو اسے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے راہ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو اُمیدوار اورم ہو خوار سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا کیس کے فرماں سے میں مقصد پا گیا اور تم یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میدان میں پھل حرماں ہے اور ذلت کی مار غل مچاتے ہیں کہ یہ کا فر ہے اور دجال ہے میں تو خود رکھتا ہوں ان کے دین سے اور یہاں سے عار گر یہی دیں ہے جو ہے ان کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار جان و دل سے ہم نثار ملت اسلام ہیں لیک ہیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہل نقار 163