درثمین مع فرہنگ — Page 162
یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو ہر وعصیاں ہزار نعرةِ إِنَّا ظَلَمْنَا سُنَّتِ ابرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونسل مار چشم کو کل کل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھو دے وہی ہے پاک نزد کردگار اپنے ایمان کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہل نار گر کیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے وہ مری ذلت کو چاہیں پا رہا ہوں میں وقار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک اژدھا بن بن کے آتے ہو گئے پھر سوسمار اے فقیہو ! عالمو ! مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشان صدق پا کر پھر یہ کہیں اور یہ نقار صدق کو جب پایا اصحاب رسول اللہ نے اس پہ مال و جان و تن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نثار پھر جب یہ علم یہ تنقیر آثار و حدیث دیکھ کر سو سونیاں پھر کر رہے ہو تم فرار بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں رُوحِ انصاف وخُدا ترسی کہ ہے دین کا مدار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو جاو دنیا کے لئے جاہ دنیا کب تلک ؟ دنیا ہے خود نا پائیدار کون در پردہ مجھے دیتا ہے ہر میداں میں فتح کون ہے جو تم کو ہر دم کر رہا ہے شرمسار تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا بلکہ یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شیکار 162