درثمین مع فرہنگ — Page 161
جی چرانا راستی سے کیا یہ دین کا کام ہے کیا یہی ہے زہد و تقوی کیا یہی راہِ خیار کیا قسم کھائی ہے یا کچھ بیچ قسمت میں پڑا روز روشن چھوڑ کر ہیں عاشق شب ہائے تار انبیاء کے طور پر حجت ہوئی اُن پر تمام اُن کے جو حملے ہیں اُن میں سب نبی ہیں حصہ دار میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار مجھ کو کافر کہ کے اپنے گھر پر کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل اُن کی ہم تو ہیں آئینہ دار ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تیوال دعوای پر از روتے شمار تھا برس چالیس کا میں اس مسافر خانہ میں جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجیب تریہ کہ نصرت کے ہوتے جاری بھار ہر قدم میں میرے مولی نے دیے مجھ کو نشاں ہر عدد پر حجت حق کی پڑی ہے ذو الفقار نعمتیں وہ دیں مرے مولے نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی اتمتُ عَلَيْكُمْ آشکار سایہ بھی ہو جاتے ہے اوقات ظلمت میں جُدا پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق و غم گسار اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دوچار پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر اُس مینیون سے ڈرو جو بادشاہ ہر دودار 161