درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 160

کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اُٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سو سو بخار یہ اگر انساں کا ہوتا کا روبار اسے ناقصاں ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری ، نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہر یار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر پہنچے ہوویں شرمسار اس قدر قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کتاب کی کیا تمھیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار ہے کوئی کا ذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار آفتاب صبح نکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیایر روشنی سے بعض اور ظلمت پہ وہ قربان ہیں ایسے بھی شہپر نہ ہوں گے گرچہ تم ڈھونڈو ہزار سر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں بین آب وہ اور در پہ نہر خوشگوار طرفہ کیفیت ہے ان لوگوں کی جو منکر ہوئے یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں کئیل و نہار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کا ذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کر دگار مردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار اُن کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی ہو گئے مفتون دنیا دیکھ کر اُس کا سنگار 160