درثمین مع فرہنگ — Page 164
واہ رے جو جہالت خوب دکھلائے ہیں رنگ جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار ناز مت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیر امت گماں کر رہے یہ جنگ کو بہار پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مر گئے جبکہ ایماں کے تمھارے گند ہوں گے آشکار ہے یہ گھر گرنے پہ آکے مغرور الے جلدی خبر تا نہ دب جاتیں ترے اہل و عیال و رشته دار یہ عجیب بد قسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی پر اڑتا ہی نہیں ہے جام غفلت کا خمار ہوش میں آتے نہیں سو سو طرح کوشش ہوتی ایسے کچھ سوتے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار دن بڑے آتے اکٹھے ہو گئے قحط و و با اب تلک تو بہ نہیں اب دیکھتے انجام کار ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار یہ عقیده بر خلاف گفته دادار ہے پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار گوہر دی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر راک ہی دیں کے لئے ہے جاتے عز و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قربان اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے منفتاح جس سے آسماں کے رکھ لیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے زنگار 164