درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 155

ایک بدکردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار آنکھ گر چھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے رازدار جس کے دعوی کی سراسر افترا پر ہے بنا اُس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار کیا خدا بھولا رہا، تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حال زار بد گمانی نے تمھیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بے شمار جہل کی تاریکیاں اور سوء مکن کی تند باد جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار زہر کے پینے سے کیا انجام جرموت و فنا بد گمانی زہر ہے اس سے کچھ اُسے دیں شعار کانٹے اپنی راہ میں ہوتے ہیں ایسے بدگماں جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار یہ غلط کاری بیشتر کی بدنصیبی کی ہے جڑ پر مقدر کو بدل دینا ہے کیس کے راختیار سخت جان ہیں ہم کسی کے بعض کی پروا نہیں دل تقوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اسے روبہ زار و نزار ہے سر رہ پر مرے وہ خود کھڑا موٹی کریم پس نہ بیٹھو میری رہ میں اسے شریان دیار 155