درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 156

سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے تار عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مردار خوار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے راک میرا میں تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر جو کرتا ہے وہ وار دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وه سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور داد گر پھر شریا انتفض ظالم کو کہاں جائے قرار کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر میں خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسماں پر دعوتِ حق کے لیے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش انواع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جال نشار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار ہر طرف ہر ملک میں ہے بت پرستی کا زوال کچھ نہیں انسان پرستی کو کوئی عزو و وقار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گو منہ کریں بک بک ہزار اسْمَعُوا صَوتَ السَّماء جاء المسيح جاء المسیح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار 156