درثمین مع فرہنگ — Page 154
ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے نا خدا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار نور دل جاتا رہا اور معتقل موٹی ہو گئی اپنی کجرائی پہ ہر دل کر رہا ہے اعتبار جس کو ہم نے قطرہ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اس میں بھی پانے ہزار دوربین معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھا لیئے ہر شاخ ایماں کے شمار اے خُدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغ تقوی دیں گی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنے کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار راک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں راک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سو گئے کسی قدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیارے عقل پر پردے پڑے سو سو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہو کر الگ چاہا کہ ہوویں اہلِ نار گر نہ ہوتی بد گمانی کفر بھی ہوتا فنا اس کا ہو وے ستیاناس اس سے بگڑے ہو شیار بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے راک پیشہ سے ہو جاتی ہے کوؤں کی قطار حد سے کیوں بڑھتے ہو لو گو کچھ کر خوف خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار کیا خدا نے اتقیاء کی عون و نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافرز سے وہ کیوں کرتا ہے پیار 154 -