درثمین مع فرہنگ — Page 153
اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پر ہر ذرہ میرا پھیر دے میری طرف اسے ساریاں جنگ کی مہار کچھ خبرے تیرے کوچہ میں یہ کسی کا شور ہے خاک میں ہو گا یہ سر گر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم دعیب سے اب کیجئیے قطع نظر تا نه خوش ہو دشمن دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کوشن میں ہو گیا زار و نزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضُعْفِ دین مصطفے مجھ کو کراسے میرے سلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد ؟ یہ تو تیرے پر نہیں اُمید اے میرے حصار! یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پکار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا نور ہے چھا رہا ہے ابر پیاس اور رات ہے تاریک تار ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولی اس طرف دریا کی دھار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پر اپنے تا وہ ہو وہیں رستنگار کسی طرح پیٹیں کوئی تدبیر، کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سو ہر کنار 153