درثمین مع فرہنگ — Page 152
قبضہ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار گر کرے میجر جمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں جو ہو وے مثل سنگ کو بہار ہائے میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا زلزلوں سے ہو گئے صدہا مساکن مثل غار شرط تقوی تھی کہ وہ کرتے نظر اس وقت پر شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار کیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علیم کے کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار دل میں جو ارماں تھے وہ دل میں ہمارے رہ گئے دشمن جاں بن گئے جن پر نظر تھی بار بار ایسے کچھ بگڑے کہ اب بنا نظر آتا نہیں آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار کیس کے آگے ہم کہیں اس درد دل کا ماجرا اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا در کنار کیا کروں کیونکر کروں میں اپنی جاں زیر وزیر کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نقار اس قدر ظاہر ہوئے ہیں فضل حق سے معجزات دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دل فگار پر نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم وحیا دیکھ کر سو سونیاں پھر بھی ہے تو ہیں کا روبار صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں راک نیشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار دن چڑھا ہے دشمنان دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار 152