درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 151

جس کو چاہے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے تخت سے نیچے گراوے کر کے خوار میں بھی ہوں تیسرے نشانوں سے جہاں میں آکر نشاں جس کو تو نے کر دیا ہے قوم و دین کا افتخار فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم بر قرار عزت و ذلت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور باد بہار میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اسے مرے مالک ترسے بھیڈی کی سار تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے شمار ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند شہر توں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظم سے عمار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب کے بار اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رد کروں حکم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں لیس ضعیف و ناتوان و دلفگار دعوت ہر ہر زہ کو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم میں کوہ ماراں ہر گزر میں دشت خار چرخ تک پہنچے ہیں میرے نعرہ ہائے روز و شب پر نہیں پہینچی دلوں تک جاہلوں کے یہ پکار 151