درثمین مع فرہنگ — Page 150
میں تو مرکز خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی جبار اسے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار را بتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا ئیں مثل طفل شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول کیں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاغوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار ہو گئے بیکار سب چیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل غبار سر زمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہو دے برق کا راک دم میں ہر بار انتشار پھر دوبارہ ہے اتارا تو نے آدم کو یہاں تا وہ تخیل راستی اس ملک میں لاو سے رشمار لوگ سو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور میں تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں راز دار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران و نفع د سر میر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار 150