درثمین مع فرہنگ — Page 149
مناجات اور تبلیغ حق اے خدا اسے کارساز و عیب پوش و کردگار سے مرے پیارے مرے محسین مرے پر وردگار کی طرح تیرا کروں اسے دو الیکن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے میں سے ہو یہ کاروبار بد گمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ رب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اسے مرے حاجت برار کے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پنہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن کبکار 149