درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 147

آخر کوئی تو بات ہے جس سے ہوا وہ یار بدکار سے تو کوئی بھی کرتا نہیں ہے پیار تم بد بنا کے پھر بھی گرفتار ہو گئے یہ بھی تو ہیں نشاں جو نمودار ہو گئے تاہم وہ دوسرے بھی نشاں ہیں ہمارے پاس لکھتے ہیں اب خدا کی عنایت سے بے ہراس جس دل میں رچ گیا ہے محبت سے اُس کا نام وہ خود نشاں ہے نیز نشاں سارے اُس کے کام کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقہ ناداں زنانہ اُن کے گماں میں ہم بک و یک حال ہو گئے سے اُن کی نظر میں کافر و دجال ہو گئے ہم مُفتری بھی بن گئے اُن کی نگاہ میں بے دیں ہوئے فساد کیا حق کی راہ میں پر ایسے کُفر پر تو خدا ہے ہماری جاں جس سے ملے خدائے جہان و جہانیاں 147