درثمین مع فرہنگ — Page 146
اسے ہوش و عقل والو ! یہ عبرت کا ہے مقام چالاکیاں تو ہیچ ہیں ، تقوی سے ہوویں کام جو متقی ہے اس کا خُدا خود نصیر ہے انجام فاسقوں کا عذاب سعیر ہے جڑ ہے ہر ایک خیر و سعادت کی اتقا جس کی یہ جڑ رہی ہے عمل اس کا سب رہا مومن ہی فتح پاتے ہیں انجام کار میں ایسا ہی پاؤ گے سُخن کردگار میں کوئی بھی مفتری ہمیں دنیا میں اب دکھا جس پر یہ فضل ہو ، یہ عنایات ، یہ عطا اس بد عمل کی قتل سزا ہے نہ یہ کہ پیت پس کس طرح خدا کو پسند آگئی یہ ریت کیا تھا یہی معاملہ پاداش افترا کیا مفتری کے بارے میں وعدہ نہیں ہوا کیوں ایک مفتری کا وہ ایسا ہے آشنا یا بے خبر ہے عیب سے دھوکے میں آگیا 146