درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 141

اپنا تو اس کا وعدہ رہا سارا طاق پر آوروں کی سعی و جہد پر بھی کچھ نہیں نظر کیا وہ خدا نہیں ہے جو فرقاں کا ہے خُدا پھر کیوں وہ مفتری سے کرے اس قدر وفا آخر یہ بات کیا ہے کہ ہے ایک مفتری کرتا ہے ہر مقام میں اس کو خدا بری جب دشمن اس کو بیچ میں کوشش سے لاتے ہیں کوشش بھی اس قدر کہ وہ بس مر ہی جاتے ہیں راک اتفاق کر کے وہ باتیں بناتے ہیں سو جھوٹ اور فریب کی تہمت لگاتے ہیں پھر بھی وہ نامراد مقاصد میں رہتے ہیں جاتا ہے بے اثر وہ جو سو بار کہتے ہیں ذلت ہیں چاہتے ۔ یہاں اکرام ہوتا ہے کیا مفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے؟ اسے قوم کے سر آمده ! اسے حامیان دیں! سوچو کہ کیوں خُدا تمھیں دیتا مدد نہیں 141