درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 131

جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو کچھ دل میں ڈر نہیں سو روگ کی دوا یہی وصل الھی ہے اس قید میں ہر ایک گناہ سے رہائی ہے پر جس خدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں کیونکہ نثار ایسے پر ہو جائے کوئی جاں ہر چیز میں خُدا کی رضیا کا ظہور مہور ہے پر پھر بھی غافلوں سے وہ دلدار دور ہے جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا اسے آزمانے والے ! یہ نسخہ بھی آزما عاشق جو ہیں وہ یار کو مرمر کے پاتے ہیں جب مر گئے تو اُس کی طرف کھینچے جاتے ہیں یہ راہ تنگ ہے ۔ پہ یہی ایک راہ ہے دلبر کی مرنے والوں پر ہر دم نگاہ ہے ناپاک زندگی ہے جو دوری میں کٹ گئی دیوار زهد خشک کی آخر کو پھٹ گئی 131