درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 130

جن کو نشان حضرت باری ہوا نصیب وہ اس جناب پاک سے ہر دم ہوئے قریب کھینچے گئے کچھ ایسے کہ دنیا سے سو گئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اس کے ہی ہو گئے ین دیکھے کیسے پاک ہو اِنساں گناہ سے اس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اس کی چاہ سے تصویر شیر سے نہ ڈرے کوئی گوسپند نے مار مُردہ سے ہے کچھ اندیشہ گزند پھر وہ خدا جو مُردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا اُمید ایسے سے اور خوف اُس سے کیا ایسے خُدا کے خوف سے دل کیسے پاک ہو سینہ میں اس کے عشق سے کیونکر تپاک ہو بن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی 130