درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 129

کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخ خوب یار سے ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے اُن سے خُدا کے کام سبھی معجزانہ ہیں یہ اِس لئے کہ عاشق یار یگانہ ہیں اُن کو خدا نے غیروں سے بخشی ہے امتیاز اُن کے لئے نشاں کو دکھاتا ہے کارساز جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں جب بد شعار لوگ اُنھیں کچھ ستاتے ہیں جب اُن کے مارنے کے لئے چال چلتے ہیں جب اُن سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں تب وہ خدائے پاک نیشاں کو دکھاتا ہے غیروں پر اپنا رعب نشاں سے جاتا ہے کہتا ہے " یہ تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو ، اگر تمھیں لڑنے کی تاب ہے“ اُس ذاتِ پاک سے جو کوئی دل لگاتا ہے آخر وہ اُس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے 129