درثمین مع فرہنگ — Page 124
اے حب جاه والو ! یہ رہنے کی جا نہیں اس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں دیکھو تو جا کے اُن کے مقابر کو راک نظر سوچو کہ اب سلف ہیں تمھارے گئے کدھر اک دن وہی مقام تمھارا مقام ہے اک دن یہ صُبح زندگی کی تم پہ شام ہے راک دن تمھارا لوگ جنازہ اٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تاسف سے آئیں گے اے لوگو ! عیش دنیا کو ہر گز وفا نہیں کیا تم کو خوف مرگ و خیالِ فنا نہیں سوچو کہ باپ دادے تمھارے کدھر گئے کیس نے بلا لیا وہ سبھی کیوں گزر گئے وہ دن بھی ایک دن تمھیں یارو نصیب ہے خوش مت رہو کہ کوچ کی نوبت قریب ہے ڈھونڈو وہ راہ جس سے دل در سینہ پاک ہو 6 نفس دنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو 124