درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 123

کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں پر دیکھو کیسے ہو گئے شیطاں سے ہم عناں هر دم نشان تازه کا محتاج ہے بشر قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبر ازل گر اک نشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پچھل رقصوں کا یہ اثر ہے کہ دل پر فساد ہے ایماں زباں پہ سینہ میں حق سے عناد ہے دنیا کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مر گتے غفلت میں ساری عمر کیسٹر اپنی کر گئے اے سونے والو ! جاگو کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے وہ یار ہے کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا ! لعنت ہے ایسے جینے پر گر اُس سے ہیں جدا اُس رخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ ملے یار آشنا 123