درثمین مع فرہنگ — Page 119
وه وہ رہ جو یار گم شدہ کو کھینچ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقین کا پلاتی ہے وہ رہ جو اُس کے ہونے یہ محکم دلیل ہے وہ رہ جو اُس کے پانے کی کامل سبیل ہے اُس نے ہر ایک کو وہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک وشبہ تھے سب کو مٹا دیا افسردگی جو سینوں میں تھی دور ہو گئی مظلمت جو تھی دلوں میں وہ سب نور ہو گئی جو دور تھا خزاں کا وہ بدلا بہار سے چلنے لگی نسیم رعنایات یار جاڑے کی رُت ظہور سے اس کے پکٹ گئی سے عشق خدا کی آگ ہر اک دل میں کٹ گئی جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے کر گئے موجوں سے اُس کی پردے وساوس کے پھٹ گئے جو کُفر اور رفیق کے ٹیلے تھے کٹ گئے 119 و ساوش