درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 107

جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من متن کا ہو انتر گیانی اگر آگے کو پیدائش ہے سب بند تو پھر سوچو ذرا ہو کے خردمند کہ جس دم پا گئی ممکتی ہر اک جاں تو پھر کیا رہ گیا ایشر کا ساماں کہاں سے لائے گا وہ دوسری روح که تا قدرت کا ہو پھر باب مفتوح غرض جب سب نے اس مکتی کو پایا تو ایشر کی ہوئی سب ختم مایا تناسخ اُڑ گیا آئی قیامت کرو کچھ فکر اب حضرت سلامت عزیزہ کچھ نہیں اس بات میں جاں اگر کچھ ہے تو دکھلاؤ یہ میداں بہت ہم نے بھی اس میں زور مارا خیالستان کو جانچا ہے سارا مگر ملتی نہیں کوئی بھی بڑہاں بھلا سچ کس طرح ہو جائے بہتاں نہ ہو گا کوئی ایسا مت زمیں پر کہ یہ باتیں کہے جاں آفریں پر دعا کرتے رہو ہر دم پیار و ہدایت کے لئے حق کو پکارو دُعا کرنا عجب نعمت ہے پیارے دعا سے آگے کشتی کنارے اگر اس نخل کو طالب لگائے تو اک دن ہو رہے ہوتھا نہ جائے ہمارا کام تھا وعط و منادی سو ہم سب کر چکے واللہ بہادی الراقم مرزا غلام احمد رئیس قادیان ۱۲۹۵ الثامن من الشهر المبارك الحرم بارك الله جميع المونين بجرى المقدس على صاحبه الصلاة والسلام ه منشور محمدی بنگلور ۱۸۷۵ء مطابق دار ربیع الثانی ۱۳۹۵ ) الحكم جلد ۷ - ۲۸ - مئی ۱۹۴۳ ء والفضل ۱۸ جنوری ۱۹۶۳ء ) 107