درثمین مع فرہنگ — Page 106
نظر سے اس کے ہوں محجوب و مکتوم نہ ہو تعداد تک بھی اس کو معلوم معاذ اللہ ! یہ سب باطل گماں ہے وہ خود الیشر نہیں جو ناتواں ہے اگر بھولے رہے اس سے کوئی جاں تو پھر ہو جاوے اس کا ملک دیراں پیارو ! یہ روا ہرگز نہیں ہے خدا وہ ہے جو رب العالمیں ہے یہ ایسی بات منہ سے مت نکالو خطا کرتے ہو ہوش اپنے سنبھالو اگر ہر ذرہ اس بن خود عیاں ہو تو ہر ذرے کا وہ مالک کہاں ہو اگر خالق نہیں روحوں کی وہ ذات تو پھر کاہے کی ہے قادر وہ ہات خدا پر عجز و نقصاں کب روا ہے اگر ہے دیں یہی پھر کفر کیا ہے؟ اگر انس بن بھی ہو سکتی ہیں اشیار تو پھر اس ذات کی حاجت رہی کیا ؟ اگر سب شتے نہیں اس نے بنائی تو لبس پھر ہو چکی اس سے خدائی اگر اس میں بنانے کا نہیں زور تو پھر اتنا خدائی کا ہے کیوں شور وہ ناکامل خدا ہو گا کہاں سے کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے ذرا سوچو کہ وہ کیسا خُدا ہے کہ جس سے جگت روحوں کا جُدا ہے سدا رہتا ہے اُن روحوں کا محتاج انہیں سب کے سہارے پر کرے راج جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات بھلا اس کو خدا کہنا ہی کیا بات 106