درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 105

آریوں سے خطاب عزیز و دوستو! بھائیو اشنو بات خدا بخشے تمہیں عالی خیالات ہمیں کچھ کہیں نہیں تم سے پیار نہ رکیں کی بات ہے تم خود بچارو اگر کھینچے کوئی کینے کی تلوار تو اس سے کب پہلے بچھڑا ہوا یار غرض پند و نصیحت ہے نہ کچھ اور خدا کے واسطے تم خود کرو غور کہ گر الیشر نہیں رکھتا یہ طاقت کہ اک جاں بھی کرے پیدا بقدرت تو پھر اُس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا کہ ین قدرت ہوا یہ جگت سارا وگر تم خالق اس کو مانتے ہو تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشر کے ہی لائق ہیں اوصاف کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ اک ذرہ ہوا اس سے ہویدا نہ اُن بن چل سکے اس کی خدائی نہ اُن بن کر کے زور آزمائی 105