درثمین مع فرہنگ — Page 104
اے آریو ! یہ کیا ہے ؟ کیوں دل بگڑ گیا ہے؟ ران شوخیوں کو چھوڑو راہِ حیا ہی ہے مجھ کو ہو کیوں ستاتے سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے۔ دور از بلا یہی ہے جس کی دُعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر۔ وہ میرزا یہی ہے 6 اچھا نہیں ستانا ، پاکوں کا دل دکھانا گستاخ ہوتے جانا ، اس کی جزا یہی ہے اس دیں کی شان و شوکت یا رب مُجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا ہی ہے کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس دعا ہی ہے قادیان کے آریہ اور سیم " مطبوعہ ۱۹۰ ص۴۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص۴۴۹ ) 104