درثمین مع فرہنگ — Page 103
لعل یمن بھی دیکھے در مدن بھی دیکھے سب جو کہروں کو دیکھا دل میں جچا ہی ہے انکار کر کے اِس سے پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا ہی ہے پر آریوں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی وہ گالیوں پہ اُترے دل میں پڑا یہی ہے بدتر ہر ایک بک سے وہ ہے جو یک زباں ہے جس دل میں یہ نجاست ببیت الخلا یہی ہے پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا ہی ہے گو ہیں بہت درندے انساں کے پوستیں ہیں کیس دیں پر ناز ان کو جو دید کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی وہ کھوکھلا یہی ہے لے یاد رہے کہ وید پر ہمارا کوئی حملہ نہیں ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کی تفسیر می کیا یا تصرف کئے گئے آریہ ورت کے صدہا مذہب اپنے عقائد کا دیدوں پر انحصار رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور باہم ان کا سخت اختلاف ہے پس ہم اس جگہ دید سے مراد صرف آریہ سماج والوں کی شائع کردہ تعلیمیں اور اصول لیتے ہیں ۔ منہ 103