درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 102

تجھ میں وفا ہے پیارے پیچھے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے ، جاتے بکا یہی ہے ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا ۔ ہم پر کھلا یہی ہے اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں گرا یہی ہے راک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پر دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے کیونکر تبہ وہ ہو دے کیونکر فنا وہ ہو دے 6 ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا ہی ہے ایسا زمانہ آیا جس نے غَضَبُ ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو وہ آرکیا یہی ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں سُرمہ سے معرفت کے اک سرمہ سا ہی ہے سب خشک ہو گئے ہیں پھولا پھلا ہی ہے 102