درثمین مع فرہنگ — Page 101
جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر قدر و قضا ہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے پھر پھر کے در پر آتے تیغ و تبر دکھاتے ۔ ہر سو ہوا یہی ہے دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے هشیار ساری دنیا راک باؤلا یہی ہے اس رہ میں اپنے قصے تم کو میں کیا سناؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم ، عقل رسا یہی ہے اے میرے یار جانی ، کر خود ہی مہربانی ست کہہ کہ لن ترانی تجھ سے رہا یہی ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جاں گئی ہے عاشق جہاں پر مرتے وہ کربلا یہی ہے تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دوری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا یہی ہے 101