درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 100

جلد آ مرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے میری دوا ہی ہے کہتے ہیں جوش الفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر مرے پیارے ہر دم گھٹا ہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے میری غذا ہی ہے دنیا میں عشق تیرا ، باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا ، عشق صفا ہی ہے مشت غبار اپنا تیرے لیئے اُڑایا جب سے سُنا کہ شرط مہر و وفا ہی ہے دلیر کا درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا ۔ جامِ بقا ہی ہے اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اُس نے مجھ کو دیا ہی ہے حرف وفا نہ چھوڑوں اِس عہد کو نہ توڑوں ! اُس دلیر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے 100